Skip to main content

65 سال بعد بہن بھائی ملے مگر بات نہیں ہو پائی

بھارت تعلقات کتنے ہی کشیدہ کیوں نہ ہوں، سوشل میڈیا کی سرحدیں نہیں ہوتیں۔س
وشل میڈیا ہی نے بچھڑے بہن بھائیوں کو ملنے میں مدد کی، پھر اسی کے ذریعے بات ہوئی اور اب 65 سال بعد ایک بہن اپنے بھائیوں سے ملنے اپنے آبائی علاقے پہنچ گئی ہے۔
خیبر پختونخوا کے دور افتادہ علاقے اپر دیر سے گمشدہ ہونے والی خاتون جمعجان سلطانہ نامی اس خاتون کا رابطہ پاکستان میں اپنے خاندان کے ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا تھا۔
رات کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے اپنے علاقے پہنچی ہیں
پاکستان پہنچنے سے پہلے جب بہن کی سوشل میڈیا پر اپنے بھائیوں سے ویڈیو کے ذریعے بات ہوئی تو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بیٹھی بہن فرط جذبات سے بے ہوش ہو گئی تھیں۔
جان سلطانہ چھ سے سات سال کی عمر میں لاپتہ ہو گئی تھیں اور وہ گھر میں سب سے بڑی بیٹی تھیں۔ اُن کے بھائیوں کی عمریں اس وقت دو سے چار سال تک تھیں، اور آج وہی بھائی بزرگ ہیںانعام الدین نے بدھ کو ان کا واہگہ بارڈر پر استقبال کیا جہاں بہن بھائی گلے ملے اور خوب روئے۔
انعام الدین نے بتایا کہ وہ بہت چھوٹے تھے جب ان کی بہن لاپتہ ہو گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی بہن کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں اور بہت سے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بہن کی گمشدگی کے تیس سال بعد تک وہ انہیں تلاش کرتے رہے لیکن اُن کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ پھر وہ تھک ہار کر بیٹھ گئے تھے۔
انعام الدین نے بتایا کہ انہیں نہیں پتہ کہ وہ کیسے لاپتہ ہو گئی تھیں، بس انہیں یہ معلوم ہوا تھا کہ وہ کہیں کھو گئی ہیں۔ وہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر پہنچیں یہ بھی کسی کو معلوم نہیں ہے۔
یہ خاندان خیبر پختونخوا کے علاقے اپر دیر کے دور افتادہ پہاڑوں میں گھرے ایک گاؤں گورک
وہی عشیری درہ میں رہائش پذیر ہےاس صورتحال کا علم دیر سے تعلق رکھنے والے ادویات کے ایک تاجر اکرام اللہ کو ہوا تو انہوں نے اپنے دوستوں کے ذریعے اس خاندان کو تلاش کیا اور پھر ان کا رابطہ ویڈیو چیٹ کے ذریعے کرایا گیا۔
اکرام اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلی مرتبہ اس سال سات جنوری کو فیس بک پر رابطہ ہوا تھا اور اس کے بعد یہ سلسلہ جاری رہا اور اب جاں سلطانہ یہاں پہنچی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ ہوا اور اس خاندان کے افراد کو تلاش کیا گیا اور اس طرح بہن بھائی کی ملاقات ہو سکی۔
اکرام اللہ نے بتایا کہ جب خاتون پاکستان پہنچیں اور بھائیوں سے ملی تو وہ کافی رقت آمیز مناظر تھے اور بہن، بھائیوں کو دیکھ کر مسلسل رو رہی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ علاقے میں لوگ خوش ہیں اور انہوں نے خاتون کا پرتپاک استقبال کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جاں سلطانہ کو پشتو بہت کم آتی ہے اور اردو وہ بول نہیں سکتیں۔ وہ صرف کشمیری زبان بولتی ہیں اس لیے ان سے کوئی بات نہیں ہو سکی۔
جاں سلطانہ کے تین بیٹوں میں ایک سکول کے پرنسپل ہیں جبکہ دوسرے ایک نجی سکول میں پڑھاتے ہیں اور تیسرے بیٹے اپنا کاروبار کرتے ہیں۔ یہ خاتون اپنے بچوں کے ساتھ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اننتناگ کے مقام پر رہائش پزیر ہیں۔ خاتون کے شوہر 30 سال پہلے وفات پا گئے تھے
Best Adsense Alternative

Comments

Popular posts from this blog

ڈاکٹر بیٹیوں کا کیا کہنا ہے؟

پروفیسر فخر الاسلام کی بڑی بیٹی ڈاکٹر ماہ نور فخر حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں تعینات ہیں اور ہسپتال کے دیگر وارڈز میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ابھی تک ان کی ڈیوٹی کورونا کے لیے مختص کیے گئے وارڈز یا کورونا آئسولیشن وارڈز میں نہیں لگائی گئی تاہم ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر بنتے وقت وقت انھوں نے یہ حلف لیا تھا کہ وہ کسی وبا یا مشکل سے نہیں گھبرائیں گی اور وہ بغیر کسی تفریق کے ہر انسان کی خدمت کریں گی۔ انھوں نے کہا کہ مشکلات ضرور پیش آتی ہیں لیکن یہ پیشہ خواتین کے لیے بہت اچھا ہے۔ جبکہ پروفیسر فخر الاسلام کی چھوٹی بیٹی ڈاکٹر ماہ نور سے پوچھا کہ اب جب کورونا کی وبا ملک میں پنجے گاڑے بیٹھی ہے تو کیا کبھی انھیں ایسا لگا کے انھوں نے یہ شعبہ اختیار کر کے غلطی کی؟ ان کا جواب میں کہنا تھا کہ کبھی نہیں بلکہ وہ اپنے اس شعبے پر فخر کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈیوٹی پر جاتے وقت انھیں والدین کی اور والدین کو ان کی فکر ضرور ہوتی ہے لیکن انسانیت کی خاطر وہ اس خدمت پر معمور ہیں اور یہی سب سے بڑا کام ہے۔ ڈاکٹر ثمرہ فخر کہتی ہیں کہ انھوں نے کورونا کے مریضوں کی سکریننگ پر ڈیوٹی کی ہے اور اس شعبے میں ...

بلوچستان میں حکمران جماعت کے 2 اہم وزراء و مشیروں نے استعفوں پر دستخط کر دیئے

وزیراعلی بلوچستان جام کمال کے لئے ایک اور مشکل، انکی اپنی ہی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے وزیر پی ایچ ای نور محمد ڈمر اور صوبائی وزیر لائیو اسٹاک مٹھا خان جبکہ 2 مشیروں سردار مسعود لونی اور محمد خان طور اتمانخیل نے کابینہ میں انہیں مسلسل نظر انداز کرنے پر احتجاجا اپنے استعفوں پر دستخط کر دیئے ہیں۔ وزیراعلی جام کمال کے خلاف انکی اپنی ہی جماعت کے وزراء کی ناراضگی کا یہ پہلا موقع نہیں، اس سے قبل بھی صوبائی وزیر لیبر اینڈ مین پاور سردار سرفراز ڈومکی وزارت سے مستعفی ہو چکے ہیں جبکہ اسپیکر عبدالقدوس بزنجو نے بھی وزیراعلی کے خلاف علم بغاوت بلند کر چکے۔ وزراء کے استعفوں کے بارے میں ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ استعفوں کی خبریں مجھ تک پہنچی ہیں مگر تصدیق نہیں کر سکتا۔ یقین ہے کہ معاملات جلد بہتر ہو جائیں گے اور ناراض ہونے والوں کو منا لیں گے۔

*اسٹوڈنٹس نے ٹیچر سے کہا سر آپ ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلیں 5 گیندوں پر ٹیچر نے 2 رن بنائے چھٹی* گیند پر کلین بولڈ ہو گئے

*اسٹوڈنٹس نے ٹیچر سے کہا سر آپ ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلیں 5 گیندوں پر ٹیچر نے 2 رن بنائے چھٹی* گیند پر کلین بولڈ ہو گئے اسٹوڈنٹس نے شور مچا کر بھرپور خوشی ظاہر کی کلاس میں ٹیچر نے پوچھا کون کون چاہتا تھا کہ میں اسکی گیند پر آوٹ ہو جاٶں؟ سب باٶلرز نے ہاتھ کھڑے کر دیئے ٹیچر ہنس دیئے پوچھا میں کرکٹر کیسا ہوں؟ سب نے کہا بہت برے پوچھا میں ٹیچر کیسا ہوں جواب ملا بہت اچھے ٹیچر پھر ہنس دیئے صرف آپ نہیں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے میرے ہزارہا اسٹوڈنٹس جن میں کئی میرے نظریاتی مخالف ہیں گواہی دیتے ہیں کہ میں اچھا ٹیچر ہوں راز کی بات بتاؤں میں جتنا اچھا ٹیچر ہوں اتنا اچھا اسٹوڈنٹ نہیں تھا مجھے ہمیشہ سبق یاد کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور بات سمجھنے میں وقت لگا لیکن کیا آپ بتا سکتے ہیں اسکے باوجود مجھے اچھا ٹیچر کیوں مانا جاتا ہے؟ سب نے کہا سر آپ بتائیں کیوں؟ ٹیچر نے کہا 👈 ادب،👉 مجھے اچھی طرح یاد ہے اپنے ٹیچر کے ہاں دعوت کی تیاری میں انکی مدد کر رہا تھا فریزر سے برف نکالی جسے توڑنے کیلئے کمرے میں کوئی شے نہیں تھی استاد کام کیلئے کمرے سے نکلے تو میں نے مکا مار کر برف توڑ دی اور استاد کے...