Skip to main content

ڈاکٹر بیٹیوں کا کیا کہنا ہے؟

پروفیسر فخر الاسلام کی بڑی بیٹی ڈاکٹر ماہ نور فخر حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں تعینات ہیں اور ہسپتال کے دیگر وارڈز میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ابھی تک ان کی ڈیوٹی کورونا کے لیے مختص کیے گئے وارڈز یا کورونا آئسولیشن وارڈز میں نہیں لگائی گئی تاہم ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر بنتے وقت وقت انھوں نے یہ حلف لیا تھا کہ وہ کسی وبا یا مشکل سے نہیں گھبرائیں گی اور وہ بغیر کسی تفریق کے ہر انسان کی خدمت کریں گی۔ انھوں نے کہا کہ مشکلات ضرور پیش آتی ہیں لیکن یہ پیشہ خواتین کے لیے بہت اچھا ہے۔ جبکہ پروفیسر فخر الاسلام کی چھوٹی بیٹی ڈاکٹر ماہ نور سے پوچھا کہ اب جب کورونا کی وبا ملک میں پنجے گاڑے بیٹھی ہے تو کیا کبھی انھیں ایسا لگا کے انھوں نے یہ شعبہ اختیار کر کے غلطی کی؟ ان کا جواب میں کہنا تھا کہ کبھی نہیں بلکہ وہ اپنے اس شعبے پر فخر کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈیوٹی پر جاتے وقت انھیں والدین کی اور والدین کو ان کی فکر ضرور ہوتی ہے لیکن انسانیت کی خاطر وہ اس خدمت پر معمور ہیں اور یہی سب سے بڑا کام ہے۔ ڈاکٹر ثمرہ فخر کہتی
ہیں کہ انھوں نے کورونا کے مریضوں کی سکریننگ پر ڈیوٹی کی ہے اور اس شعبے میں کام کرنا مشکل ضرور ہے اور سہولتوں کی کمی بھی ہے لیکن مجموعی طور پر وہ مطمئن ہیں اور بڑے فخر سے یہ کام کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانیت کی خدمت کا جذبہ انھیں اپنے والدین سے ورثے میں ملا ہے اور وہ خوشی سے یہ ڈیوٹی سر انجام دیتی ہیں۔ ڈاکٹروں کی کمی صوبہ خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کی کمی کا سامنا ہے اور گزشتہ کچھ عرصے کے دوران صوبے میں ڈاکٹروں کی تنظیموں کی جانب سے مظاہرے بھی کیے گئے تھے جس میں ڈاکٹروں کی خالی نشستوں پر تعیناتی کا مطالبہ سر فہرست تھا۔ اس وقت ڈاکٹروں کی صوبائی ایسوسی ایشن کے مطابق صوبے میں ایک ہزار تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی مستقل تعیناتی باقی ہے جبکہ 1500 ڈاکٹرز ایسے ہیں جنھوں نے اپنی تعلیم مکمل کر لی ہے اور اب انھیں ہاؤس جاب کے لیے تعینات کرنا باقی ہے۔ گذشتہ ماہ صوبائی حکومت نے لگ بھگ 1300 ڈاکٹروں کی تعیناتی کا فیصلہ کیا تھا اور یہ تعیناتی کنٹریکٹ پر صرف چھ ماہ کے لیے کی گئی ہے۔ پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر سلیم خان نے کہا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ یہ تعیناتیاں مستقل بنیادوں پر کریں تاکہ صوبے میں ڈاکٹروں اور دیگر

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

بلوچستان میں حکمران جماعت کے 2 اہم وزراء و مشیروں نے استعفوں پر دستخط کر دیئے

وزیراعلی بلوچستان جام کمال کے لئے ایک اور مشکل، انکی اپنی ہی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے وزیر پی ایچ ای نور محمد ڈمر اور صوبائی وزیر لائیو اسٹاک مٹھا خان جبکہ 2 مشیروں سردار مسعود لونی اور محمد خان طور اتمانخیل نے کابینہ میں انہیں مسلسل نظر انداز کرنے پر احتجاجا اپنے استعفوں پر دستخط کر دیئے ہیں۔ وزیراعلی جام کمال کے خلاف انکی اپنی ہی جماعت کے وزراء کی ناراضگی کا یہ پہلا موقع نہیں، اس سے قبل بھی صوبائی وزیر لیبر اینڈ مین پاور سردار سرفراز ڈومکی وزارت سے مستعفی ہو چکے ہیں جبکہ اسپیکر عبدالقدوس بزنجو نے بھی وزیراعلی کے خلاف علم بغاوت بلند کر چکے۔ وزراء کے استعفوں کے بارے میں ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ استعفوں کی خبریں مجھ تک پہنچی ہیں مگر تصدیق نہیں کر سکتا۔ یقین ہے کہ معاملات جلد بہتر ہو جائیں گے اور ناراض ہونے والوں کو منا لیں گے۔

*اسٹوڈنٹس نے ٹیچر سے کہا سر آپ ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلیں 5 گیندوں پر ٹیچر نے 2 رن بنائے چھٹی* گیند پر کلین بولڈ ہو گئے

*اسٹوڈنٹس نے ٹیچر سے کہا سر آپ ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلیں 5 گیندوں پر ٹیچر نے 2 رن بنائے چھٹی* گیند پر کلین بولڈ ہو گئے اسٹوڈنٹس نے شور مچا کر بھرپور خوشی ظاہر کی کلاس میں ٹیچر نے پوچھا کون کون چاہتا تھا کہ میں اسکی گیند پر آوٹ ہو جاٶں؟ سب باٶلرز نے ہاتھ کھڑے کر دیئے ٹیچر ہنس دیئے پوچھا میں کرکٹر کیسا ہوں؟ سب نے کہا بہت برے پوچھا میں ٹیچر کیسا ہوں جواب ملا بہت اچھے ٹیچر پھر ہنس دیئے صرف آپ نہیں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے میرے ہزارہا اسٹوڈنٹس جن میں کئی میرے نظریاتی مخالف ہیں گواہی دیتے ہیں کہ میں اچھا ٹیچر ہوں راز کی بات بتاؤں میں جتنا اچھا ٹیچر ہوں اتنا اچھا اسٹوڈنٹ نہیں تھا مجھے ہمیشہ سبق یاد کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور بات سمجھنے میں وقت لگا لیکن کیا آپ بتا سکتے ہیں اسکے باوجود مجھے اچھا ٹیچر کیوں مانا جاتا ہے؟ سب نے کہا سر آپ بتائیں کیوں؟ ٹیچر نے کہا 👈 ادب،👉 مجھے اچھی طرح یاد ہے اپنے ٹیچر کے ہاں دعوت کی تیاری میں انکی مدد کر رہا تھا فریزر سے برف نکالی جسے توڑنے کیلئے کمرے میں کوئی شے نہیں تھی استاد کام کیلئے کمرے سے نکلے تو میں نے مکا مار کر برف توڑ دی اور استاد کے...